اللہ کی پسند اور ناپسند — قرآن کی روشنی میں اخلاق، عدل اور اعتدال
اللہ کی پسند اور ناپسند — قرآن کی روشنی میں زندگی کا سلیقہ
میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ کن باتوں کو پسند کرتا ہے اور کن سے
ناپسندیدگی کا اظہار فرماتا ہے۔ ان آیات میں انسان کے اخلاق، معاملات، اور
سماجی رویوں کی اصلاح کا پیغام چھپا ہے۔
آئیے ان آیات پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ ہمیں کس طرزِ زندگی کی طرف
بلاتا ہے۔
اللہ کو بدکلامی پسند نہیں (سورۃ النساء، آیت 148)
"اللہ بدکلامی کو پسند نہیں کرتا،۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ زبان کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا
چاہیے۔ بدکلامی، گالی، یا طنز نہ صرف دوسروں کو تکلیف دیتی
ہے بلکہ اللہ کی ناراضی کا سبب بھی بنتی ہے۔
سلام کا جواب دینا فرض ہے (سورۃ النساء، آیت 86)
"جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم ویسا ہی۔"
اسلام امن کا دین ہے، اور سلام اس کی علامت۔ یہ آیت ہمیں
سکھاتی ہے کہ امن کا پیغام آگے بڑھانا اللہ کو پسند ہے۔
فضول خرچی اللہ کو ناپسند ہے (سورۃ الانعام، آیت 141)
"بیشک اللہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا۔"
آج کے دور میں ایک عام رویہ بن چکا ہے۔ یہ آیت ہمیں سادگی،
اعتدال اور وسائل کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔
ناپ تول میں انصاف (سورۃ الاعراف، آیت 85)
رزق کی کشادگی اللہ کے ہاتھ میں ہے
(سورۃ البقرہ، آیت 212)
"اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے۔"
یہ آیت ہمیں تقدیر پر یقین اور حسد سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔
رزق کا اصل مالک اللہ ہے، اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو
کب اور کتنا دینا ہے۔
نتیجہ — قرآن کی روشنی میں زندگی کا سلیقہ
نہیں، بلکہ اخلاق، معاملات، اور رویوں سے بھی حاصل ہوتی
ہے۔ اگر ہم ان ہدایات پر عمل کریں، تو نہ صرف ہماری ذاتی
زندگی بہتر ہوگی بلکہ معاشرہ بھی امن، عدل اور محبت کا گہوارہ
بن جائے گا۔
Comments
Post a Comment