"چھت ٹپکنے کی آواز اور زافر کا بدلتا دل"
چھت ٹپکنے کی آواز اور زافر کا بدلتا دل
مگر ایک دن سب کچھ بدل گیا…
زافر کو اچانک پتہ چلا کہ اسے کینسر ہے۔ جب ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا کہ اب زیادہ وقت نہیں بچا، تو زافر نے سوچا:
”جب جانا ہی ہے، تو کیوں نہ اپنے لوگوں کے بیچ کچھ وقت گزارا جائے…“
وہ پاکستان واپس لوٹ آیا۔ مگر گھر پہنچ کر وہ گرمجوشی اور اپنائیت نہ ملی جس کی اُمید تھی۔ سب کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا:
”کیا کام چھوڑ دیا؟ اب پیسے کہاں سے آئیں گے؟“
زافر خاموش رہا، صرف اتنا کہا: ”میں سب کچھ چھوڑ کر آ گیا ہوں…“
کچھ دن گزرے، ایک رات تیز بارش ہو رہی تھی۔ زافر نیند میں نہیں تھا، دل بےچین تھا۔ اچانک اسے برتنوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اُس نے گھر والوں سے پوچھا، مگر کوئی واضح جواب نہ ملا۔
زافر خود اٹھا، اور اُس آواز کے پیچھے چلا۔ جب دروازہ کھولا اور باہر نکلا، تو پتا چلا کہ برابر والے گھر سے آواز آ رہی ہے۔
ایک بیوہ عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، اور برتنوں کو اِدھر اُدھر رکھا جا رہا تھا تاکہ پانی اکٹھا ہو سکے۔
زافر نے پوچھا: "بیٹی، برتن کیوں ہلا رہی ہو؟"
چھوٹی بچی نے معصومیت سے جواب دیا: "چچا… چھت سے پانی ٹپک رہا ہے… کبھی یہاں گرتا ہے، تو کبھی وہاں۔"
یہ سنتے ہی زافر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس ایک لمحے نے زافر کی سوچ بدل دی۔
زافر نے اُس رات نہ صرف اُن معصوم بچیوں کے لیے اپنی زندگی کا مقصد بدلا، بلکہ یہ بھی محسوس کیا کہ اصل دولت صرف پیسہ نہیں، بلکہ کسی کے کام آنا، کسی کے دکھ میں شریک ہونا، اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی مدد کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
Comments
Post a Comment