صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے متعلق 5 اہم باتیں
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق 8 اہم باتیں
(1) تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی بڑے سے بڑا ولی کسی کم مرتبے والے صحابی کے رتبہ تک نہیں پہنچ سکتا-
(2) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو قرب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے امتی کو میٹر نہیں اور جو بلند درجات یہ پائیں گے وہ کسی اور امتی کو نہ ملیں گے۔
(3) اہلسنت کے خواص اور عوام پہلے سے آخری درجے تک کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو انتہاء درجے کا نیک اور متقی جانتے ہیں اور ان کے احوال کی تفاصیل کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا، اس پر نظر کرنا حرام مانتے ہیں۔
(4) اگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں سے کسی کا کوئی ایسا فعل منقول ہے جو کہ نظر کی آنکھ میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ہو اور اس میں کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ملے تو (اس کے بارے میں اہل سنت کے علماء اور عوام کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ اس کا اچھا عمل بیان کرتے ہیں، اسے ان کے قلبی اخلاص اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں، اللہ تعالی کا سچا فرمان " رضي الله عنهم " سن کر دل کے آئینے میں تفتیش کے زنگ کو جگہ نہیں دیتے اور حقیقی احوال کی تحقیق کے نام کا میل کچیل ، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں دیتے ۔
(5) صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے رہتے ہماری عقل سے وراء ہیں، پھر ہم اُن کے معاملات میں کیسے دخل دے سکتے ہیں اور ان میں صورہ جو تنازعات اور اختلافات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ہیں؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیں، یا ان جھگڑوں میں ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں ، بلکہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ سب دین کی مصلحتوں کے طلب گار تھے،
اسلام اور مسلمانوں کی سر بلندی ان کا نصب العین تھی، پھر وہ مجتہد بھی تھے، تو جس کے اجتہاد میں جو بات اللہ تعالیٰ کے دین اور تاجدار رسالت صلی اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَالِهِ وسلم کی شریعت کے لیے زیادہ مصلحت آمیز اور مسلمانوں کے احوال سے مناسب تر معلوم ہوئی ، اس نے اسے اختیار کیا، اگر چہ اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں اور سب واجب الاحترام ہیں ، ان کا حال بالکل ایسا ہے جیسا دین کے فروعی مسائل میں خود علماء اہلسنت بلکہ ان کے مجتہدین مثلاً امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی و غیر جما رضی اللہ تعالی عنہم کے اختلافات ہیں۔
(6) مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان جھگڑوں کے سبب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں ایک دوسرے کو نہ گمراہ فاسق جانیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کے دشمن ہوں بلکہ مسلمانوں ک تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی علهم آقائے دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جاں نثار اور بچے غلام ہیں، اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہوں میں معظم و معزز اور آسمان ہدایت کے روشن ستارے ہیں۔
(7) صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بارے میں یادرکھنا چاہئے کہ وہ انبیاء اور فرشتے نہ تھے کہ گناہ سے معصوم ہوں، ان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی عَلَيْهِ وَسَلَّم کے احکام کے خلاف ہے۔
(8) الله عز و جل نے سورہ حدید میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں ، (1) مَنْ الْفَقَ مِن قَبْلِ الفَتْحِ وَقَتَلَ (2) الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَتَلُوا -
Comments
Post a Comment